Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جوامام داڑھی ایک مشت سے کم کرے تو اس پر کیا حکم ہے؟
- Answered by
- مفتی فضیل صاحب مدظله العالی
- Fatwa no.
- 11957:Kan
- Issued
- 06 محرم الحرام 1438ھ/08اکتوبر 2016ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو شخص اپنی داڑھی کو ایک مشت سے کم کرتا ہے اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟ سائل : فخر الزمان عطاری ( تحصیل وزیر آباد ضلع گجرانوالہ ڈاکخانہ سارو کی چیمہ )
Answer (beginning)
داڑھی منڈوانا، یا ایک مشت سے کم کروانانا جائز وگناہ ہے اور ایسا شخص فاسق معلن ہے اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے یعنی پڑھنا گناہ اور پڑھ لی ہو تو اس نماز کا اعادہ واجب ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَا عَن وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaohlesunnat.net Dar-ul-Ifta Ahlesunnat f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftoahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.