Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسافر امام نے بھول سے ظہر کی نماز پوری پڑھادی تو؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جمادی الاولی 1441ھ
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام مسافر ہے اور مقتدی مقیم ہیں، امام نے بھولے سے نماز ظہر چار رکعتیں پڑھا دیں، اور دوسری رکعت کے بعد قعدہ بھی کیا، لیکن آخر میں سجدہ سہو نہیں کیا، نماز کے بعد مسافر امام کو یاد آیا کہ میں نے چار پڑھا دی، حالانکہ میں مسافر ہوں، نماز کا کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
مسافر امام نے جو نماز بھولے سے چار رکعت پڑھا دی اور دوسری رکعت میں قعدہ بھی کیا تھا، تو اس صورت میں مسافر امام اور مقیم مقتدیوں کے لیے الگ الگ حکم ہو گا۔ مسافر امام کی نماز کا حکم یہ ہو گا کہ اس کے فرض ادا ہو جائیں گے اور آخری دو رکعت نفل ہو جائیں گی ، لیکن بُھولے چار رکعت مکمل کرنے کی وجہ سے سجدہ سہو لازم تھا جو کہ مسافر امام نے نہ کیا، لہذا نماز واجب الاعادہ کی نیت سے دوبارہ ادا کرنی ہو گی۔ جبکہ مقتدیوں کے لیے حکم یہ ہو گا کہ ان کی نماز باطل ہو گئی، کیونکہ اقتداء کے لئے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ امام کی نماز مقتدیوں کی نماز کے مثل ہو یا اس سے اعلیٰ ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.