Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز جنازہ کی تکرار کرناکیسا ہے؟
- Fatwa no.
- 0049:Fmd
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ہمارے محلے میں نوابشاہ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کرائے پر رہتے ہیں، ان کے والد کا انتقال ہو گیا تو ان کی نماز جنازہ محلے کی جامع مسجد کے سنی صحیح العقیدہ امام صاحب (جو ما شاء اللہ بہت متقی و پرہیز گار بھی ہیں) نے پڑھایا لیکن ان کے بیٹوں نے اس وجہ سے جنازہ کی نماز میں شمولیت اختیار نہیں کہ جنازہ نوابشاہ لے کر جانا تھا تا کہ وہاں پر موجود رشتے دار بھی ان بیٹوں کے ساتھ دوبارہ نماز جنازہ میں شریک ہو سکیں تو معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں نماز جنازہ دوبارہ پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں؟ نوٹ: زبانی معلومات لینے پر سائل نے بتایا کہ میت کے ورثاء نارمل قسم کے لوگ ہیں نمازی ہیں لیکن نیکی و پرہیز گاری میں نمایاں نہیں۔
Answer (beginning)
یہاں پر دو مسئلے ہیں۔ (1) ایک وہ جو آپ نے دریافت کیا کہ اس صورت میں نماز جنازہ کا تکرار کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ اور (2) دوسرا یہ کہ پردیس میں انتقال کرنے والی میت کو اس کے آبائی وطن میں تدفین کے لئے لے جانا۔ ان دونوں کا علی الترتیب حکم شرع درج ذیل ہے۔ پہلا مسئلہ کہ امام مسجد محلہ جو تقوی وپرہیز گاری میں اولیاء میت سے افضل و بہتر ہے ، نے جنازے کی نماز پڑھائی اور اس میں میت کے اولیاء میں سے کوئی شریک نہ بھی ہوا ہو تب بھی اس صورت میں اولیاء میت کے لئے نماز جنازہ کا تکرار جائز نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.