Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قبر بیٹھنے کی صورت میں قبر کے اوپر کی تعمیر نو کرسکتے ہیں؟

Fatwa no.
0032:Fmd

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ آج سے تقریباً 21 سال قبل میری والدہ کا انتقال ہوا جن کو ایک وقفی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ بعد از تدفین جب قبر تعمیر کی گئی تو قبر کے سلیپ کے اوپر چاروں طرف دیواریں کھڑی کر دی گئیں اور بیچ والا حصہ کچار کھا گیا۔ اب چونکہ اس تعمیر کو کافی عرصہ ہو گیا اور قبر بھی کچھ بیٹھ گئی ہے اندیشہ ہے کہ اگر قبر کی مرمت نہ کی گئی تو کچھ عرصہ بعد اس کی حالت اور زیادہ خستہ ہو جائے گی لہذا ہم چاہتے ہیں کہ قبر کی تعمیرات کریں۔ اس کے لئے پہلے اوپر کی پرانی تعمیرات ختم کرنا ہوں گی اس حد تک که سلیب نظر آجائیں لیکن اس میں قبر کشائی کی نوبت نہ آئے گی پھر نئے سرے سے قبر کی تعمیرات کریں گے اور اس کا طریقہ یہ ہو گا کہ ہم چ کے مٹی والے حصے پر سریے کا جال بچھا کر قبر کے اوپر چاروں طرف دیوار بنائیں گے اور اُس پر ماربل بھی لگائیں گے اور بیچ کا حصہ کچا ہی رکھیں گے ۔ کیا شر عا اس انداز میں قبر تعمیر کرنے کی ہمیں اجازت ہے ؟

Answer (beginning)

قبر کی تعمیر نو کے لئے اس پر بنی ہوئی پرانی پختگی کو ختم کرنے کی اجازت نہیں کہ عموما قبر کے پرانے ہونے کے باعث اس کے اوپر کے سلیپ وزنی مٹی کا بوجھ اٹھانے کے باعث کچھ کمزور ہو جاتے ہیں نیز قبر کی اندرونی دیواروں میں پختگی نہیں رہتی، لہذا تعمیر نو کے لئے اس پرانی پختگی کو ختم کرنے کے لئے توڑ پھوڑ کے دوران، قبر کے اوپر والے سلیپ ٹوٹ کر گرنے سے قبر کھل جانے کا قوی اندیشہ وخدشہ ہے ۔ اس لئے پہلی حالت کو برقرار رکھا جائے اور پرانی تعمیر میں جہاں کمزوری آئی ہو اس کو ضرور تا پختہ کر سکتے ہیں اور ماربل یا ٹا ئلز سے بھی بچیں کہ اس سے مقصود زینت ہوتی ہے اور قبر محل زینت نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.