Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اُجرت ایڈوانس میں لینا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ربیع الثانی 1441ھ

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں رکشہ چلاتا ہوں اسکول کے بچے لگائے ہوئے ہیں ان سے ہم فیس ایڈوانس میں پہلے لیتے ہیں وہ لینا چاہئے یا نہیں ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ کا ایڈوانس فیس وصول کرنا، جائز ہے کیونکہ آپ کو رکشے کے کرایہ کی مد میں ملنے والی رقم آپ کی اجرت ہے اور کرامیہ یا اُجرت پیشگی (Advance) بھی وصول کی جاسکتی ہے، لہذ افریقین پیشگی اجرت پر راضی ہیں تو کوئی حرج نہیں۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے: ” الاجرة لا تجب بالعقد و تستحق باحدى معاني ثلثة اما بشرط التعجيل او بالتعجيل من غير شرط او باستيفاء المعقود علیہ ترجمہ : اجرت محض عقد سے واجب نہیں ہوتی بلکہ تین چیزوں میں سے کوئی ایک پائی جائے تو اجرت کا مستحق ہوگا، یاتو پیشگی دینے کی شرط لگائی ہو یا بغیر شرط ہی ڈینگی اجرت دے دی یا پھر کام پورا ہو گیا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.