Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امتحانات کے عملے کو کھلانے پلانے کا شرعی حکم

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ربیع الثانی 1441ھ

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ Examination Staff کو اس لئے کھانا کھلانا اور تحفہ دینا تا کہ وہ ہمارے طلبہ کو چیٹنگ ( نقل) کرنے دیں۔ یہ کیسا ہے؟

Answer (beginning)

سائلہ : بنت نواز (خوشاب) قوانین شرعیہ کے مطابق اپنا کام نکلوانے یا دوسروں کی حق تلفی کے لئے کسی کو کچھ دینا رشوت کہلاتا ہے، اس کے مطابق Examination Staff کو اس مذموم غرض سے کھانا کھلانا یا تحفہ دینا، اپنا کام نکلوانے اور نقل نہ کرنے والے طلبہ کی حق تلفی کے لئے ہے، لہذار شوت و ناجائز ہے۔ پھر یہ کہ امتحانات میں نقل کرنا یا کرواناخود مستقل طور پر ناجائز و حرام کام ہے، اولاًاس لئے کہ قانوناً جرم ہے اور پکڑے جانے کی صورت میں ذلت ورسوائی کا سبب ہے اور ایسا ملکی قانون جو خلاف شریعت نہ ہو اور اس کی خلاف ورزی میں ذلت کا اندیشہ ہو ، ایسے قانون پر شرعاً بھی عمل واجب ہے، ثانیاً اس لئے کہ نقل کرنے میں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.