Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نقد اور اُدھار کے ریٹ میں فرق رکھنا

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ربیع الثانی 1441ھ

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا تعلق غلہ منڈی بصیر پور اوکاڑہ سے ہے ، ہم کھاد ، بیج، اسپرے وغیرہ کا کاروبار کرتے ہیں۔ بعض اشیاء نقد اور بعض ادھار پر دیتے ہیں اور اس کی تعیین بھی شروع ہی میں کر لی جاتی ہے ، ادھار کی قیمت نقد سے زیادہ ہوتی ہے۔ رقم کی ادائیگی کی مدت بھی شروع سے ہی طے ہوتی ہے اور رقم کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں کسی طرح کا جرمانہ بھی نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ ادھار کی صورت میں قیمت زیادہ مقرر کرنا غیر شرعی عمل تو نہیں ؟ بعض لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ادھار میں زیادہ قیمت مقرر کرنا سود ہے۔ آپ اس معاملے میں ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں۔

Answer (beginning)

نقد وادهار خرید و فروخت میں چند چیزوں کا لحاظ ضروری ہے، پہلی یہ کہ شروع ہی میں طے کر لیا جائے کہ سودا نقد ہے یا ادھار ، دوسری یہ کہ ادھار کی صورت میں ادائیگی کی مدت بھی معلوم و مقرر ہو۔ تیسری یہ کہ کوئی ناجائز شرط بھی نہ ہو مثلاً مقرر کردہ مدت سے تاخیر کی صورت میں جرمانہ وغیرہ کی شرط نہ ہو۔ ان چیزوں کا لحاظ رکھتے ہوئے خرید و فروخت جائز ہے اور چونکہ آپ کا طریقہ کار بھی اس کے مطابق ہے لہذا درست ہے۔ جو لوگ اسے سودی معاملہ کہتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ ان پر لازم ہے کہ توبہ کریں کہ بغیر تحقیق کے اپنی انکل سے شرعی مسئلہ بتا نانا جائز و گناہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.