Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میاں بیوی میں ایک سال تک جدائی رہی کیا اب نکاح دوبارہ کرنا ہوگا؟
- Answered by
- مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
- Fatwa no.
- 4823:Pin
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ میری زوجہ گھریلو ناچاقیوں کی وجہ سے میکے چلی گئی، سسرال والوں کی طرف سے کچھ شرائط ہمیں منظور نہیں تھی، جس وجہ سے تقریبا ایک سال ہم نے بالکل رابطہ نہیں کیا ، نہ ان کی طرف سے رابطہ ہوا، اب خاندان کے بعض بڑے افراد نے صلح صفائی کروادی ہے ، اس صورت میں اکٹھا ر ہنے کے لئے کیا دوبارہ سے نکاح کرنا پڑے گا؟ جبکہ میں نے اب تک کوئی طلاق نہیں دی ، نہ زبانی نہ تحریری، اس جھگڑے میں بھی نہیں دی کیونکہ مجھے امید تھی کہ معاملات طے ہو جائیں گے۔
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں اگر واقعی آپ نے کوئی طلاق نہیں دی، نہ کوئی اور مانع ( مثلاً ایلا وغیرہ) موجود ہو، تو اکٹھے رہنے کے لئے دوبارہ نکاح کرنے کی حاجت نہیں، سابقہ نکاح کافی ہے، کیونکہ زوجین کا فقط ایک دوسرے سے دور رہنا یا رابطہ منقطع کر دینا، نکاح ٹوٹنے کا سبب نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَا مَن وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.