Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غروبِ آفتاب کے فوراً بعد اذان مغرب کا شرعی حکم

Answered by
مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ صفر المظفر 1441ه

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ اذانِ مغرب کا وقت کب شروع ہوتا ہے، غروبِ آفتاب کے فورا بعد اذان دینی چاہئے یا چند منٹ ٹھہر کے، برائے کرم اس بارے میں شرعی راہنمائی فرمادیں۔ سائل : حاجی اللہ دتہ ( تحصیل صفدر آباد، ضلع شیخوپورہ)

Answer (beginning)

غروب آفتاب ہوتے ہی نماز مغرب کا وقت شروع ہو جاتا ہے، اور جیسے ہی غروب آفتاب کا یقین ہو جائے بغیر تاخیر کئے اذانِ مغرب دے دینی چاہئے کہ بلا عذر شرعی اذانِ مغرب میں تاخیر کرنا خلاف سنت ہے۔ البتہ فی زمانہ بلند و بالا عمارات، اور علم توقیت سے ناواقفیت کی وجہ سے عوام غروب آفتاب کا صحیح اندازہ لگاسکیں، یہ بہت مشکل ہے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ ہر علاقے کے لوگ معتبر سنی علماء کے بنائے ہوئے اوقات نماز کے نقشہ جات کی اتباع کریں جو انہوں نے اس علاقے کے لئے ترتیب دیا ہو۔ اس سلسلہ میں مکتبہ المدینہ سے شائع ہونے والے نظام الاوقات کافی مفید و مستند ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.