Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز کے اندر غیرمحل میں لقمہ لینا اور دینا

Answered by
مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ صفر المظفر 1441ه

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ امام مغرب کی نماز میں قعدہ اولی بھول کر سیدھا کھڑا ہو گیا ، امام کے مکمل سیدھا کھڑے ہونے کے بعد ایک شخص نے لقمہ دیا تو امام لقمہ لے کر بیٹھ گیا اور آخر میں سجدہ سہو کر کے نماز مکمل کرلی۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں امام، دیگر مقتدیوں اور لقمہ دینے والے مقتدی کی نماز ہو گئی یا نہیں؟

Answer (beginning)

دریافت کی گئی صورت میں امام اور تمام مقتدیوں کی نماز فاسد ہو گئی کہ جب امام سیدھا کھڑا ہو چکا تھا تو اب لقمہ دینے کا محل نہیں تھا کہ سیدھا کھڑے ہونے سے سجدۂ سہو واجب ہو چکا اب اس سے زائد کسی خلل کا اندیشہ نہیں تھا جس سے بچنے کے لئے لقمہ کی اجازت ہوتی تو مقتدی کا لقمہ دینا محض بے جا و بے محل تھا اور بے محل لقمہ دینے والے کی نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ اور ایسا لقمہ لینے سے امام کی نماز بھی فاسد ہو جاتی ہے لہذا بے محل لقمہ لینے سے جب امام کی نماز فاسد ہوئی تو اس کے پیچھے تمام مقتدیوں کی نماز بھی فاسد ہو گئی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.