Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

صاحب ترتیب پر فجر باقی تھی اور ظہر پڑھادی؟

Answered by
مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
4826:Pin

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک شخص صاحب ترتیب ہے، اس کی فجر کی نماز چھوٹ گئی، اور اس نے ظہر کی نماز میں امامت کروائی، ظہر کی نماز کے بعد اس نے فجر کی نماز بھی قضا کر لی، اب اس صورت میں حکم یہ ہے کہ اس کی ظہر کی نماز فاسد ہو گئی، اور ظہر کا اعادہ کرنا ہو گا، لیکن چونکہ اس شخص نے ظہر کی نماز میں امامت کی تھی، اب اگر اس کی نماز فاسد ہے تو اس کے پیچھے مقتدیوں کی نماز بھی فاسد قرار دی جائے گی، یا نہیں ؟

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں اگر صاحب ترتیب شخص کو فجر کی قضاء یاد تھی اور وقت میں بھی وسعت ہونے کے باوجود نماز ظہر کی امامت کروائی تو ان کی اقتدا جائز نہ تھی، اور جنہوں نے پڑھی ان کی نماز باطل قرار دی جائے گی ، لہذا ان سب پر دوبارہ پڑھنا لازم ہو گا۔ اور اگر امام صاحب کو اپنی قضاء نماز یاد ہی نہ تھی، یا یاد تو تھی لیکن فرضیت ترتیب سے ناواقف تھے ، یا ظہر کا وقت تنگ تھا کہ اگر فجر پڑھتے تو اسی وقت میں ظہر ادا نہ ہو سکتی، یا ان کی پہلے سے پانچ نمازیں قضا ہو چکی تھی، اور فجر کی ملا کر کل چھ ہو گئیں ، تو ان سب صورتوں میں ان کی اپنی نماز بھی درست ہو گئی، اور ان کے پیچھے تمام مقتدیوں کی نماز بھی درست ہے، کیونکہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.