Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میڈیکل اسٹور میں سرمایہ کاری (Investment) کی ایک آسان صورت

Answered by
مفتی علی اصغر صاحب مدظله العالی
Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ محرم الحرام 1441ھ

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) میرا میڈیکل اسٹور ہے ایک شخص نے مجھے آفر دی کہ میرے پیسے بھی اس میں لگا لو اور اس پر جو بھی پرافٹ ہو وہ دے دینا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس کام میں حساب کتاب نہیں کر پاتے اور مجھے اپنے کام میں کوئی نقصان بھی نہیں ہے بلکہ ماہانہ پچاس ساٹھ ہزار روپے نفع ہی ہوتا ہے ،اب میں اپنے حساب سے اس شخص کو کبھی آٹھ ہزار ، کبھی دس ہزار، کبھی بارہ ہزار روپے دے دیتا ہوں، یہ سود میں تو شامل نہیں ہو گا؟

Answer (beginning)

سوال میں مذکور طریقہ کار جائز نہیں اور یوں اندازے سے رقم دینا شراکت نہیں۔ جب تک آپ شریعت مطہرہ کا بیان کرده کار و باری طریقہ اختیار نہیں کریں گے اس طرح کی انویسٹمنٹ حلال نہیں ہو سکتی۔ وجہ یہ ہے کہ جب آپ اکیلے ہیں تو آپ ہی مالک ہیں آپ کا اختیار ہے کہ کم مال رکھیں زیادہ مال رکھیں ستا بیچیں مہنگا بیچیں، ماہانہ حساب کریں یا نہ کریں آپ کی مرضی ہے۔ البتہ زکوۃ کی ادائیگی کے لئے سالانہ حساب کر نا پڑے گا، لیکن جب آپ نے کسی دوسرے کو پارٹنر بنالیا تو سب سے پہلے تو شرعی تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔ پہلا مرحلہ تو یہ ہو گا کہ آپ دونوں کا سرمایہ (Capital) واضح ہو کہ ان کا اور آپ کا سرمایہ (Capital) کتنا ہے؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.