Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اگر مقتدی پانچویں رکعت میں امام کی اتباع کرلے تو کیا حکم ہے؟

Answered by
مفتی فضیل صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
1-11957:Kan
Issued
13 محرم الحرام 1438ھ/15اکتوبر 2016ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے چار رکعتوں والی نماز میں امام کے ساتھ ایک رکعت ادا کی ، امام نے چوتھی رکعت میں تشہد پڑھنے کے بعد کھڑا ہو گیا یہ سمجھا کہ شاید یہ اس کی تیسری رکعت ہے پھر پانچویں رکعت کا سجدہ بھی کر لیا اور امام پر ظاہر ہو گیا کہ یہ اس کی پانچویں رکعت تھی لہذا اس نے ایک اور رکعت ساتھ ملالی تاکہ چھ مکمل ہو جائیں ، اب مسبوق نے ان رکعتوں میں اس کی قصد امتابعت کی اور اس کے بعد اس نے یہ خیال کر کے ایک رکعت مزید پڑھی کہ دور کعتیں جو میں امام کے ساتھ پڑھ چکا ہوں وہ بھی فرائض میں شامل ہو گئیں ہیں تو اس صورت میں مقتدی کی نماز کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں مسبوق کی نماز نہ ہوئی۔ اسلئے کہ امام قعد کا خیرہ کر چکا تھا اور مسبوق نے قصدا پانچویں رکعت میں امام کی متابعت کی ہے۔ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے : اگر امام پانچویں رکعت کیلئے کھڑا ہو جائے تو اس کی دو صورتیں ہیں: امام قعد 16 خیرہ کر چکا تھا، یا نہیں، اگر امام قعدہ اخیرہ کر چکا تھا اور اب مسبوق نے قصدا اس کی متابعت کی تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی اور اگر امام نے قعدہ اخیرہ نہیں کیا تھا تو جب تک امام پانچویں رکعت کا سجدہ نہیں کر لیتا اس وقت تک اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.