Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کے غیر ضروری بال کاٹنے کا حکم؟
- Answered by
- مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
- Fatwa no.
- 4830:Pin
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ (1) عوام میں مشہور ہے کہ میت کو بڑا غسل دینا ( یعنی غیر ضروری بال کاٹنا ضروری ہوتا ہے ، ایسا نہ کریں تو گناہ گار ہوں گے ؟ (۲) نیز موٹی چادر کے بغیر غسل دینا بھی ضروری ہے، تا کہ کپڑے کے نیچے بھی پانی بہہ جائے، براہ کرم اس بارے میں رہنمائی کیجئے ؟ سائل : محمد اشفاق (راولپنڈی)
Answer (beginning)
(۱) ہمارے معاشرے میں اسلامی معلومات کی کمی کی بناء پر بعض بالکل غلط اور خلاف شرع باتیں مشہور ہیں، انہی میں سے ایک میت کے غیر ضروری بال کاٹنے کو ضروری سمجھنا ہے، حالانکہ علماء نے اس سے واضح طور پہ منع کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں کاٹنا مکروہ تحریمی و نا جائز ہے۔ (۲) نیز موٹی چادر ڈالے بغیر غسل دینے کو ضروری سمجھنا بھی محض غلط ہے، بلکہ بہتر یہی ہے کہ ستر میت پہ موٹی چادر ڈال کر غسل دیا جائے ، تاکہ پانی پڑنے کی صورت میں بھی اعضائے ستر نہ چمکیں، کیونکہ میت کے ستر کے بھی وہی احکام ہیں، جو زندہ کے ہیں، لہذا موٹی اور گہرے رنگ کی چادر استعمال کی جائے ، تاکہ بے پردگی کا اندیشہ ختم ہو جائے، اور جہاں تک…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.