Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اخراجات کا جعلی بل بنواکر کمپنی سے زائد رقم وصول کرنا
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ ذوالحجۃ الحرام 1440ھ
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں جس کمپنی میں نوکری کرتا ہوں وہاں کام کے سلسلے میں سفر زیادہ کر نا پڑتا ہے ، دورانِ سفر اگر کسی ہوٹل میں رکنا پڑے تو کمپنی نے مجھے پابند کیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پندرہ سوروپے سے دوہزار روپے تک والے ہوٹل میں ٹھہرنا ہے ، اگر میں کسی کم ریٹ والے ہوٹل میں ٹھہرتا ہوں مثلاً اس کا ریٹ پانچ سو سے سات سو روپے ہے اور میں پند روسو کا بل بنواتا ہوں تو کیا یہ جائز ہے ؟
Answer (beginning)
اگر آپ کی کمپنی یہ رقم بطورِ الاؤنس آپ کو دیتی ہے کہ آپ کہیں بھی رہیں چاہے فٹ پاتھ پر سوئیں یا ہوٹل میں ٹھہریں یا کسی اور جگہ رہیں آپ کو ہر صورت میں پندرہ سو روپے ملیں گے تب تو یہ الاؤنس لینا جائز ہو گا اور اس کے لئے آپ کو بل بنوانے کی بھی ضرورت نہیں۔ لیکن آپ کا بل بنوانا اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی کمپنی میں یہ اصول نہیں ہے بلکہ کمپنی نے دو ہزار روپے تک کی حد ر کھی ہے کہ اس میں جتنا خرچہ ہو گا کمپنی آپ کو دے گی، اگر ہزار ہوا تو ہزار دے گی، پندرہ سو ہوا تو پندرہ سو دے گی ، ایسی صور تحال میں آپ کا جتنا خرچہ ہوا اس سے زائد کابل بنوا کر کمپنی سے زیاد در قم وصول کرنا جائز نہیں بلکہ آپ خیانت کرنے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.