Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مویشیوں میں انویسٹمنٹ کا شرعی طریقہ

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ذوالحب الحرام 1440ھ

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم پچیس ہزار کا جانور خریدتے ہیں اور کسی کو پالنے کے لئے دے دیتے ہیں، جب وہ جانور بڑا ہو جاتا ہے تو اس کو بیچ کر آدھے پیسے پالنے والا لے لیتا ہے اور آدھے پیسے خرید کر دینے والا۔ کیا یہ اسلام میں جائز ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

یہ طریقہ کار جائز نہیں، کیونکہ یہاں جانور کو پالنے والا جو کام کر رہا ہے اس کی اجرت میں ابہام ہے۔ عام طور سے جانوروں میں دو افراد کے مشتر کہ کام میں ایک کے جانور ہوتے ہیں اور دوسرا ان کو پال کر اپنی آمدنی کا ذریعہ پیدا کرتا ہے لیکن شرعی خرابی سے بچتے ہوئے درست طریقہ کار اپنا کر کام کریں تو شرعی طور پر ان کا معاہدہ اور آمدنی جائز ہو سکتی ہے۔ اس کا جائز طریقہ یہ ہے کہ جانور میں پالنے والے کو بھی مالک بنالیں یعنی جانور آدھا اسے کسی طویل المدت اُدھار میں بیچ دیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.