Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عید کے دن بغیر قربانی کے عقیقہ کرنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ذوالحمد الحرام 1440ھ

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سنا ہے کہ بڑی عید پر عقیقہ کرنا چاہیں تو ساتھ میں عید کے دنوں میں ہونے والی قربانی بھی کرنی ہو گی، اگر وہ قربانی نہیں کی تو عقیقہ بھی ادا نہیں ہو گا۔ کیا یہ مسئلہ درست ہے؟ وضاحت فرمادیں۔

Answer (beginning)

سوال میں مذکور مسئلہ کہ ”جو قربانی کے دنوں میں عقیقہ کرنا چاہے، اسے ساتھ میں عید کی قربانی بھی کرنی ہو گی، ورنہ عقیقہ ادا نہیں ہو گا“ درست نہیں ہے، کیونکہ عقیقہ اور عید کی قربانی، دو مستقل جدا چیزیں ہیں، عقیقہ سنتِ مستحبہ ہے، اگر کوئی شخص باوجودِ قدرت عقیقہ نہیں کرتا تو وہ گناہ گار یا مستحق عتاب نہیں، جبکہ قربانی شرائط متحقق ہونے کی صورت میں واجب اور اس کا بلا عذر ترک ناجائز و گناہ ہے لہذا یہ دوجدا چیزیں ہیں، ان میں سے ایک کی ادائیگی دوسرے پر ہر گز موقوف نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.