Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حکوت کی طرف سے مقرر کئے گئے ریٹ کی پابندی

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ذوالقعدة الحرام 1440ھ

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آپ نے فرمایا اپنی چیز ہو تو جتنے پیسے مناسب سمجھیں اس میں بیچ سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب زیادہ پیسوں میں بیچتے ہیں تو حکومتی ادارے جرمانہ لگادیتے ہیں۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

ہم نے ایک شرعی حکم بیان کیا ہے۔ جہاں تک حکومت کی طرف سے ریٹ فکس کرنے کی بات ہے تو حکومت ہر چیز کاریٹ فکس نہیں کرتی، مثال کے طور پر کپڑوں کا ریٹ فکس نہیں ہوتا، عام طور پر کھانے پینے کی اشیاء کا ریٹ مقرر ہوتا ہے ، پیٹرول کا ریٹ مقرر ہوتا ہے ، دواؤں کا ریٹ مقرر ہوتا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر پکڑ دھکڑ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اکثر چیزوں میں مارکیٹ میں آزادی ہوتی ہے ہر چیز کی قیمت حکومت مقرر نہیں کرتی۔ جن چیزوں میں حکومت پکڑ دھکڑ کرتی ہے وہاں تو ہم پابند ہیں کیونکہ اپنے آپ کو ذلت پر پیش نہیں کر سکتے لہذا قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں بلکہ وہاں پر قانون کی پاسداری کر نالازم ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.