Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پرانا اسٹاک نئے ریٹ پر بیچنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ذوالقعدۃ الحرام 1440ھ

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) میر ااسکول یونیفارم کا کار خانہ ہے میرے پاس اسٹاک پڑارہتا ہے کپڑے کا ریٹ بڑھا ہے تو کیا میں یونیفارم نئے ریٹ پر نبیچ سکتا ہوں؟

Answer (beginning)

جو مال آپ کے پاس رکھا ہوا ہے وہ آپ کا اپنا مال ہے اپنے مال کو کوئی شخص ستا نیچے یا مہنگا نیچے اس کا اسے اختیار ہے لیکن اتنی قیمت پر بیچیں کہ لوگوں کے لئے قابل برداشت ہو، بہت زیادہ مہنگا بیچنا اخلاقیات کے خلاف ہے۔ آپ اگر اپنا پر انا اسٹاک نئے مارکیٹ ریٹ پر بیچتے ہیں تو اس میں حرج نہیں۔ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : ” اپنے مال کا ہر شخص کو اختیار ہے چاہے کوڑی کی چیز ہزار روپیہ کو دے، مشتری کو غرض ہوئے ، نہ ہو نہ لے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.