Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ٹھیکیدار اگر اُجرت نہ دے تو اس کا سامان اٹھالینا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ ذوالقعدة الحرام 1440ھ
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) اگر ٹھیکیدار لیبر (Labor) کے پیسے کھا جائے تو کیا ٹھیکیدار کا کوئی سامان اٹھا کر لے جا سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
دریافت کی گئی صورت میں بہتر یہ ہے کہ ٹھیکیدار سے ہی کلیم (Claim) کریں اس کے پاس جائیں اسے بار بار یاد دلائیں اور اس سے تقاضا کریں۔ ورنہ اگر اس کو بتائے بغیر اس کی چیز اٹھا لیں گے تو اول تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ جو چیز آپ اٹھا ئیں وہ اتنی ہی مالیت کی ہو جتنے پیسے آپ کے باقی ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ اس طرح چیز اٹھانے کو لوگ یہی کہیں گے کہ آپ نے چوری کی ہے ، وہ یہ نہیں سمجھیں گے کہ جو پیسے دینا باقی رہ گئے تھے اس کے عوض میں یہ چیز لی ہے ، یوں آپ کے اوپر تہمت آئے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.