Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں تسبیحات بلند آواز سے پڑھنے کا حکم؟

Answered by
مفتی قاسم صاحب مدظله العالی فتوی نمبر: 4841:Pin
Fatwa no.
4841:Pin
Issued
11 محرم الحرام 1438ھ /13اکتوبر 2016ء

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ہماری مسجد میں بسلہ محرم الحرام ایک محفل سجائی گئی ، اور محفل کے بعد امام صاحب نے باجماعت نماز تسبیح پڑھائی ، اور ہر جگہ تسبیح قراءت کی طرح بلند آواز سے پڑھی، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کرنے سے نماز نہیں ہوئی ، لہذا اس نماز کو دوبارہ پڑھنا چاہئے، برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ ایسا کرنے سے نماز ہوئی یا نہیں؟ سائل : محمد فراز ( باغ، کشمیر)

Answer (beginning)

صورتِ مسئولہ میں امام صاحب کو تسبیحات بلند آواز سے نہیں پڑھنی چاہئے تھی، کیونکہ نماز میں دعا، ثناء اور تسبیحات وغیرہ میں اصل یہ ہے کہ انکو آہستہ آواز سے پڑھا جائے، اور بلند آواز سے پڑھنا خلاف سنت ہے، البتہ نماز ہو جائے گی اور سجدہ سہو بھی واجب نہ ہوگا۔ وَ اللهُ أَعْلَمُ مَا جَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat Dar-ul-Ifta AhleSunnat E feedback@daruliftaahlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.