Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جس امام کی قراءت درست نہ ہو اس کے پیچھے نماز کا حکم
- Fatwa no.
- 4842:Pin
- Issued
- 11 محرم الحرام 1438ھ/13اکتوبر 2016ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک امام صاحب ہیں جنکی کی داڑھی حد شرع کے مطابق ہے لیکن وہ نماز میں ث، س ، ص “ اور ط ت اور اس طرح کے حروف میں بالکل فرق نہیں کرتے ، اور اسکے علاوہ نستعین ، کونسٹٹین ، اور (الرحمن الرحیم کو) الرحمن الرحیم پڑھتے ہیں وغیرہ وغیرہ، تو انکے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ سائل : محمد فراز ( باغ، کشمیر)
Answer (beginning)
امام کے لئے امامت کی دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ قرآن پاک ایسا غلط نہ پڑھتا ہو جس سے نماز فاسد ہو جائے، اور ایسا امام جو حروف کی ادائیگی میں فرق نہ کرتا ہو جس کی وجہ سے الفاظ مہمل یا معنی فاسد ہو جائیں تو ایسے امام کی اپنی نماز بھی فاسد اور پیچھے پڑھنے والوں کی بھی فاسد ہے۔ الغرض جو حروف کو صحیح طرح ادانہ کرتا ہوا سکے پیچھے نماز درست نہیں۔ وَ اللهُ أَعْلَمُ مَا مَن وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.