Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پانی کی خرید و فروخت کرنا کیسا؟

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پانی کی خرید و فروخت کرنا کیسا ہے ؟ نیز یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ بعض جگہوں پر پانی لیٹر میں بیچا جاتا ہے اور بعض جگہوں پر گیلن میں ، تو اس میں سے کون سی صورت جائز ہے؟

Answer (beginning)

جو پانی اپنی ملکیت میں ہو ، اس کی خرید و فروخت جائز ہے۔ چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے: ”وہ پانی جس کو گھڑوں، مشکوں یا برتنوں میں محفوظ کر دیا گیا ہو اس کو بغیر اجازت مالک کوئی شخص صرف میں نہیں لا سکتا اور اس پانی کو اس کا مالک بیع بھی کر سکتا ہے۔“ (بہار شریعت، 667/3) عام طور پر بوتل یا گیلن وغیرہ جس میں پانی دیا جاتا ہے وہ خود ایک پیمانہ ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے البتہ وہ بوتل کتنے لیٹر کی ہے بعض اوقات یہ معلوم نہیں ہوتا لیکن بوتل ہمارے سامنے ہی ہوتی ہے اور یہ پتا ہوتا ہے کہ اس بوتل میں ہم نے خریدا ہے تو یہاں بوتل خود ایک پیمانہ ہے اور ابہام یہاں موجود نہیں ہے لہذا اس طرح خرید و فروخت جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.