Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وکالت کا پیشہ اختیار کرنا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ رمضان المبارک 1440ھ
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ وکالت کا پیشہ اختیار کرنا، جائز ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
وکالت کا پیشہ فی نفسم جائز ہے کیونکہ ہر شخص اپنا مؤقف پیش کرنے ، اس کو ثابت کرنے کے لیے دلائل دینے اور اپنا حق وصول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، نیز بعض اوقات کورٹ کچہری جانے میں ذلت سے بچنا بھی مقصود ہوتا ہے۔ لہذا شریعتِ مطہرہ نے اپنی طرف سے کسی دوسرے کو مقدمے کی پیروی کا وکیل بنانے کی اجازت دی ہے اور یہ طریقہ قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے۔ وکیل سے مخاصمہ کرنے کے متعلق حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں: ”طلقني زوجي ثلاثاً، ثم خرج الى اليمن، فوکل اخاه بنفقتی، فخاصمته الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم“ ترجمہ : میرے شوہر مجھے تین طلاقیں دے کر یمن چلے گئے اور اپنے بھائی کو میرے نفقے کا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.