Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وضو میں عورتیں سرکا مسح کس طرح کریں؟

Fatwa no.
4844:Pin
Issued
14 محرم الحرام 1438ھ /16اکتوبر 2016ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ وضو میں عورتیں سر کا مسح کس طرح کریں گی ، کیا مردوں کی طرح ان کے لئے بھی گردن سے واپس پیشانی تک ہتھیلیوں سے مسح کرنا ضروری ہے، اگر نہیں کریں گی تو کیا وضو ہو جائے گا، کیونکہ بال بڑے ہونے کی وجہ سے اس میں مشکل پیش آتی ہے، برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں ؟

Answer (beginning)

مرد و عورت دونوں کے لئے وضو میں چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض، اور پورے سر کا مسح کرناسنت ہے ،اگر کسی نے پورے سر کا مسح نہ کیا بلکہ اس سے کم کیا تو وضو ہو جائے گا، لیکن بلا عذر اسکی عادت بنالینے سے وہ گنہگار ہو گا، کیونکہ پورے سر کا مسح کرنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ در کتب فقہ میں پورے سر کا مسح کرنے کے دو طریقے منقول ہیں (1) دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے اور کلمے کی انگلیاں چھوڑ کر بقیہ تین تین انگلیوں کے سرے ملا کر پیشانی پر رکھے، پھر انکو گدی کی طرف اس طرح کھینچ کر لائے کہ ہتھیلیاں سر سے جدار ہیں، پھر فقط ہتھیلیوں سے سر کی دونوں جانبوں کا مسح کرتا ہوا پیشانی تک لے آئے (2) انگوٹھے اور انگلیوں کے علاوہ دونوں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.