Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام کے پیچھے تشہد نہ پڑھی تو کیا حکم ہے؟

Answered by
مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
4881:Pin

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر کسی نے امام کے پیچھے دونوں قعدوں میں سے کسی ایک میں تشہد نہ پڑھی اور امام کے ساتھ سلام پھیر دیا تو اسکی نماز کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

نماز کے اندر دونوں قعدوں میں جس طرح امام و منفر د پر مکمل تشہد پڑھنا واجب ہے اسی طرح مقتدی پر بھی واجب ہے ،اگر ایک لفظ بھی چھوڑا تو ترک واجب ہو گا۔ پھر اگر مقتدی نے تشہد نہ پڑھی تو اسکی دو صورتیں ہیں: (1) اگر تو بھولے سے نہ پڑھی تو سجدہ سہو واجب نہ ہوگا ، اور نماز درست ہے، کیونکہ امام کے پیچھے مقتدی سے اگر کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔ (2) اور اگر جان بوجھ کر تشہد نہ پڑھی اگرچہ ایک ہی لفظ تو اس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے، کیونکہ مقتدی اگر جان بوجھ کر کسی واجب کو ترک کر دے تو اس پر اس نماز کا اعادہ واجب ہوتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.