Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

درزی کے پاس بچے ہوئے کپڑے کا حکم ؟

Answered by
مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
4849:Pin

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ میرا بھائی درزیوں کا کام کرتا ہے ، گاہگ سوٹ کے حساب سے کپڑا دے کر جاتے ہیں، اور وہ اپنی کاریگری سے کاٹ کر اس میں سے کچھ نہ کچھ کپڑا بچالیتا ہے، اور بعض اوقات ایک ہی گھر کے کئی جوڑے ایک ہی تھان سے ہوتے ہیں ، اگر ان کو احتیاط سے کاٹا جائے تو ان سے زیادہ کپڑا بچ جاتا ہے جو بآسانی استعمال میں لایا جا سکتا ہے یعنی اس سے چھوٹے بچوں کا ایک آدھ سوٹ بن جاتا ہے، کیا یہ بچا ہوا کپڑا ہم اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں یا نہیں ، برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں ؟ (اکبر علی لودھی، نیو بهگام، گوجر خان)

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں آپ کا بھائی اجیر مشترک ہے ، اور اجیر مشترک کے ہاتھ میں لوگوں کی چیز امانت ہوتی ہے، لہذا سوٹ سینے کے بعد جو قابل انتفاع کپڑا بچ جائے، تو وہ بھی آپ کے بھائی کے ہاتھ میں امانت ہے، اسکا حکم یہ ہے کہ مالک کو واپس کر دیا جائے ، مالک کی اجازت کے بغیر اپنے استعمال میں لانانا جائز و حرام ہے، ہاں ! اگر مالک اسکے استعمال کی اجازت دے دے یا وہ قابل انتفاع نہیں بلکہ بالکل معمولی مقدار میں ہے جیسے کترن ، تو اسکے استعمال میں حرج نہیں لیکن کترن سے مراد بہت باریک کترن ہے ، یہ نہیں کہ آدھے گز کو کترن کا نام لے کر رکھ لیا جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.