Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جانور سے جفتی کروانے کی اجرت لینا کیسا؟
- Fatwa no.
- 4863:Pin
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں کا رواج ہے کہ کوئی غریب آدمی بھینسا پالتا ہے ، اس کو کھلاتا پلاتا اور اس کی دیکھ بھال کرتا ہے ، اس بھینسے سے لوگ بھینسوں کو حاملہ کراتے ہیں اور وہ شخص اس کی اجرت لیتا ہے ، یہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
نر جانور کو جفتی کے لیے اجرت پر لینا اور دینا نا جائز ہے اور اس کی اجرت لینا اور دینا بھی جائز نہیں، کیونکہ جفتی سے مقصود نر کا مادہ منویہ ہے اور وہ ایسی چیز ہے جس کی کوئی قیمت نہیں، نیز اس کام سے مقصود نسل حاصل کرنا ہے اور وہ حمل سے ہو گی اور حمل ٹھہرانا اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَن مَن وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.