Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اگر کمائی ضروریات میں خرچ ہو جاتی ہو تو زکوۃ لینا کیسا؟

Fatwa no.
1892:Har

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ایک غریب آدمی ہے اور پر زے بنا کر گزر بسر کرتا ہے۔ اس کی دکان میں جو مال پڑا ہے وہ تقریبا سات ہزار روپے تک کا ہے۔ ماہانہ دس ہزار روپے کماتا ہے جو کہ اس کی ضروریات میں خرچ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے مرحوم والد کی میراث میں سے دو کمروں پر مشتمل مکان بھی بطور حصہ ملا ہے، چونکہ زید غیر شادی شدہ ہے اس لیے اس نے وہ مکان کرایہ پر دیا ہوا ہے ، ماہانہ 3000 کرایہ وصول ہوتا ہے لیکن وہ بھی اس کی ضروریات میں خرچ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے پاس سونا، چاندی و غیر ہ کچھ نہیں ہے۔ کیا ایسی صورت میں زید کو زکوۃ دی جاسکتی ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

سوال میں زید کی جو حالت بیان کی گئی کہ اس کے پاس نہ سونا چاندی ہے نہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر رقم ہے اور نہ ہی حاجت اصلیہ سے زائد کوئی ایسا سامان ہے کہ جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کو پہنچتی ہو اور کرایہ کے مکان سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی اس کی ضروریات میں خرچ ہو جاتی ہے تو اس صورت میں وہ فقیر شرعی ہے اور اسے زکوۃ دی جاسکتی ہے اگرچہ کرایہ کے اس مکان کی اصل قیمت نصاب سے زیادہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں کہ جب مکان کے کرائے پر گزر بسر ہو مفتی بہ قول کے مطابق کرایہ پر دیے ہوئے مکان کی آمدنی کا اعتبار ہے ، اصل قیمت کا نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.