Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گاہک کوکسی اور کے پاس بھیجنے پر کمیشن لینا

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ فروری2018ء

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا کام ویب ڈیزائننگ (Designing) کا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم سے کوئی ویب سائٹ بنوانے کے لئے میل یا فون پر رابطہ کرتا ہے لیکن وقت نہ ہونے کی وجہ سے ہم اُسے کسی اور کے پاس بھیج دیتے ہیں اور جس کے پاس ہم نے یہ گاہک ریفر (Refer) کیا اس سے کچھ نفع طے کر لیتے ہیں۔ کیا ایسی صورت میں ہمارا اس ویب سائٹ بنانے والے سے نفع لینا درست ہے ؟

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں فقط آپ کا اس کسٹمر کو دوسرے ویب ڈیزائنر (Web Designer) کے پاس ریفر کرنے پر معاوضہ یا کمیشن لینا درست نہیں کیونکہ دوسرے کے پاس بھیجنا کوئی ایسا کام نہیں جس پر معاوضہ لیا جائے، البتہ اگر آپ عرف کے مطابق کچھ محنت کریں، بھاگ دوڑ کریں اپنا وقت صرف کریں تو پھر آپ کیلئے کمیشن لینا درست ہو جائے گا۔ محض زبانی جمع خرچ کو فقہاء نے اس مسئلہ میں قابل معاوضہ کام میں شمار نہیں کیا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.