Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیانکاح میں دولھا اور دلہن کے حقیقی والد کا نام لینا ضروری ہے ؟
- Fatwa no.
- 1911:Har
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نکاح میں دولھا اور دلہن کے حقیقی والد کا نام لینا ضروری ہے یا نہیں؟ نیز کسی نے بچہ گود لیا، اس کے حقیقی والد کا نام معلوم نہیں تو کیا گود لینے والے کا نام بطور ولدیت لے سکتے ہیں یا نہیں؟ سائل علی حمزہ ( پریٹ آباد، حیدر آباد)
Answer (beginning)
نکاح میں ضروری امر یہ ہے کہ گواہوں کے سامنے نکاح کرنے والے مرد اور عورت کی تعیین ہو جائے یعنی گواہوں کو معلوم ہو جائے کہ فلاں لڑکے کا فلاں عورت سے نکاح ہو رہا ہے۔ اگر دولھا اور دلہن مجلس عقد میں موجود ہیں تو ان کی طرف اشارہ کرنا ہی کافی ہے، کسی کا نام مع ولدیت یا بغیر ولدیت لینا بھی ضروری نہیں ہے۔ اور اگر دونوں یا کوئی ایک مجلس نکاح میں موجود نہیں جیسا کہ عموماً ہمارے ہاں دلہن مجلس عقد میں موجود نہیں ہوتی ، اس کی طرف سے اس کا وکیل ایجاب یا قبول کرتا ہے، تو اس صورت میں اگر نام یا کسی اور چیز سے تعین ہو کہ گواہ پہچان لیں تو صرف اسی قدر کافی ہے ، باپ، دادا کا ذکر ضروری نہیں ہے اور اگر اس کے بغیر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.