Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کھانا کھائے بغیر کمپنی سے کھانے کے پیسے وصول کرنا

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ جنوری 2018ء

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں غلہ منڈی میں کام کرتا ہوں میری تنخواہ ملے ہے، نیز مجھے تین وقت کھانا کھانے کی سہولت موجود ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ میں تین وقت کا کھانا نہیں کھاتا اب جب ہفتے بعد حساب ہوتا ہے کہ جس نے جتنے کا کھانا کھایا ہے وہ اپنے پیسے لے لے تو کیا میں اس وقت کے پیسے لے سکتا ہوں جس وقت میں نے کھانا نہیں کھایا تھا؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر سیٹھ نے آپ کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ چاہے آپ کھانا کھا ئیں یا نہ کھائیں ہم آپ کو کھانے کے پیسے دیں گے تو اس صورت میں ہفتہ بعد جب حساب ہو تو آپ اس وقت کے کھانے کے پیسے بھی لے سکتے ہیں کہ جس وقت آپ نے کھانا نہیں کھایا تھا لیکن اگر سیٹھ کی طرف سے صرف یہ سہولت موجود ہو کہ کھانا کھائیں گے تو پیسے دیں گے اور اگر کھانا نہیں کھائیں گے تو پیسے نہیں ملیں گے تو اس صورت میں آپ کا اس وقت کے کھانے کے پیسے لینا کہ جس وقت آپ نے کھانا نہیں کھایا تھا جائز نہیں۔ اگر آپ اس وقت کے پیسے لیں گے تو یہ جھوٹ اور دھوکا ہو گا اور وہ پیسے آپ کے لیے حلال بھی نہیں ہونگے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.