Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پرائز بانڈ (Prize Bond) کی خرید و فروخت کا حکم
- Answered by
- مفتی علی اصغر صاحب مدظله العالی
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ دسمبر 2017ء
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ پرائز بانڈ جو خریدے جاتے ہیں اس کو رکھا جاتا ہے اس کے بعد اگر نہ لگے تو اس کو کیش کروالیتے ہیں۔ آیا اس پر جو انعام نکلتا ہے وہ حلال ہے یا حرام ہے ؟
Answer (beginning)
پرائز بانڈز (Prize Bond) کا خریدنا، بیچنا جائز اور اس پر ملنے والا انعام حلال ہے۔ البتہ پاکستانی حکومت نے حال ہی میں جو چالیس ہزار (40,000) والے پر یمنیم بانڈز ( Premium Bonds) جاری کئے ہیں یہ سودی بانڈز ہیں انکی خرید و فروخت کرنا اور ان پر ملنے والا نفع لینا نا جائز و حرام ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat Darulift Ahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.