Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مارکیٹ ریٹ سے مہنگی شے بیچنا
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ نومبر 2017
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص بغیر دھوکادہی کے کسی شخص کو مارکیٹ ریٹ (Market rate) سے تین گنازیادہ مہنگی چیز بیچ دیتا ہے تو کیا معلوم ہونے پر خریدار کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ اُس سودے کو کینسل (Cancel) کر دے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر بیچنے والے نے مارکیٹ ریٹ سے تین گنازیادہ بیچنے میں کسی قسم کا دھوکا نہیں دیا تو باہمی رضامندی سے منعقد ہونے والے اس سودے کو اب خریدار کینسل نہیں کر سکتا ہاں اگر دھوکے کی صورت پائی گئی تو پھر خریدار اس سودے کو کینسل کر سکتا ہے۔ اس صورت میں دھوکے کی مثال فقہائے کرام یہ بیان فرماتے ہیں مثلاً بیچنے والا خریدار سے کہے میرے اس سامان کی اتنی قیمت ہے یا میرا یہ سامان اتنی قیمت کے مساوی ہے بیچنے والے کی اس بات پر اعتبار کرتے ہوئے خریدار وہ چیز خرید لے پھر اسے علم ہو کہ بائع ( بچنے والے) کی بات درست نہیں ہے اور اس چیز کی قیمت کم ہے تو بیچنے والے کے اس دھوکے کی وجہ سے خریدار وہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.