Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آن لائن (Online)خرید و فروخت سے متعلق اہم مسئلہ

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ اکتوبر 2017ء

Question

آن لائن (Online) خرید وفروخت سے متعلق اہم مسئله دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ آشیاء کی تشہیر (Advertisement) کرتے وقت پہلے انٹر نیٹ پر مصنوعات (Products) کی تصاویر لگائی جاتی ہیں پھر ان کو دیکھ کر پسند آنے کی صورت میں خرید و فروخت کی جاتی ہے اور اس کے بعد گاہک آن لائن (Online) رقم ادا کر دیتا ہے۔ بسا اوقات بیچی گئی چیز سوداہونے تک پراڈکٹ (Product) تشہیر کرنے والے کی ملکیت میں نہیں ہوتی البتہ سودا ہونے کے بعد وہ کسی اور سے خرید کر اس کو بھجوادیتا ہے جس نے پہلے سے رقم دے دی تھی تو اس کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

اگر واقعی ایسا ہے کہ سودا کرتے وقت بیچنے والے کی ملکیت میں وہ چیز نہیں ہوتی تو ایسا سودا کرنا جائز نہیں۔ در مختار میں ہے: كُل مَا أُورَثَ خَلَلَا فِي رُكُن البيع فَهُوَ مُنطِل یعنی ہر وہ چیز جو بیع کے رکن میں خلل پیدا کرے وہ بیع کو باطل کرنے والی ہے۔ “ (ردالمحتار علی الدر المختار، 233/7) علامہ شامی قدس سٹاه الشامی بیچ کی شرائط ذکر کرتے ہوئے ردالمحتار میں ارشاد فرماتے ہیں: "گونه مَوْجُوداً مَالاً مُتَقَوماً مَمْلُوا فِي نَفْسِهِ، وَكَوْنُ الْمِلْكِ لِلْبَائِهِم فِيهَا يَبِيعُهُ لِنَفْسِه، یعنی مبیع ( یعنی بیچی جانے والی چیز ) کا موجود ہو نا، مالِ متقوم ہونا، اپنی ملکیت میں ہونا اور جس کو بائع…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.