Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قربانی کے جانور کی کھال اُجرت میں دینا جائز نہیں
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2017ء
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قربانی کا جانور ذبح کرنے والے قصاب کو ذبح کرنے اور گوشت بنانے کے بدلے قربانی کی کھال بطور اجرت دے سکتے ہیں یا نہیں ؟
Answer (beginning)
قصاب کو اجرت کے طور پر قربانی کے جانور کی کوئی چیز مثلاً گوشت ، سری پائے یا کھال وغیر ہ دینا جائز نہیں بلکہ اس کے لئے الگ سے اجرت طے کریں۔ علامہ علاؤالدین حصکفی رحمة الله تعال علیہ فرماتے ہیں: لا يُغطى اجْرُ الْجَزَارِ مِنْهَا لانه کبید ترجمہ : ذبیح کرنے والے کو قربانی میں سے کوئی چیز بطور اجرت نہیں دے سکتے کیونکہ یہ بھی بیع (خرید و فروخت ہی کی طرح ہے۔ (در مختار ، 543/9) اعلیٰ حضرت امام اہل سنت بمعہ اللہ تعایٰ علیہ ایک مقام پر قربانی کی کسی چیز کو اجرت کے طور پر دینے کا حکم بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: اگر یہ اجرت قرار پائی تو حرام ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.