Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
انسانی بالوں کی خرید و فروخت جائز نہیں
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2017ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں انسان کے بالوں کی خرید وفروخت کرنا کیسا ہے؟
Answer (beginning)
انسان کے بالوں کی خرید و فروخت کر نانا جائز و گناہ ہے۔ چنانچہ علامہ شامی تندیس سلاؤ انشامی لکھتے ہیں : قَولُهُ (وَ شَعْرِ الإِنْسَانِ وَلَا يَجُودُ الْإِنْتِقَامُ یہ یعنی: انسان کے بالوں کی پیچ اور ان سے نفع حاصل کرنا نا جائز ہے۔ رہ الحمد علی در امتد . 2457 ی طرح بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے : قوله (وَشَعْرِ الإِنْسَانِ وَالْاِنْتِفَاعِ بِهِ) أَى لَمْ يَجُزُبَيْعُهُ وَ الْاِنْتِفَاعُ به یعنی: انسان کے بالوں کی بیج اور ان سے نفع حاصل کرنانا جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.