Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قصّاب کا پیشہ اختیار کرنا جائز ہے

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ اپریل 2017ء

Question

ہے؟ دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم گوشت کا کار و بار کرنا چاہتے ہیں کیا یہ کام جائز

Answer (beginning)

جی ہاں ! گوشت کا کاروبار کرنا جائز ہے اور دیگر تمام کاموں کی طرح اس کام میں بھی ضروری ہے کہ تجارت کے شرعی احکام پر مکمل طریقے سے عمل کریں دھوکہ ، جھوٹ، کم تولنا و غیرو نہ پایا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جانور خود و بج کرتے ہوں تو شرعی طریقے سے ذبح کرنا آتا ہو۔ فتاوی رضویہ میں ہے: ذبح بقر و قطع شجر گائے ذبح کرنے اور درخت کاٹنے) کے پیشے میں مضائقہ نہیں، یہ جو عوام میں بنام حدیث مشہور ہے کہ ذابِحُ الْبَقَرِ وَقَاطِعُ الشَّجَرِ گائے ذبح کرنے والا اور درخت کاٹنے والا) جنت میں نہ جائے گا محض غلط ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.