Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نابالغ بچے کی خرید و فروخت کا شرعی حکم
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ اپریل 2017ء
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عام طور پر نابالغ چھوٹے بچے دکانوں سے کھانے پینے کی چیزیں خریدتے ہیں تو کیا نا بالغ بچوں کا یہ چیزیں خرید نادرست ہے؟
Answer (beginning)
سمجھ دار نابالغ بچہ اپنے ولی کی اجازت سے اشیاء کی خرید و فروخت کر سکتا ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ غبن فاحش یعنی مارکیٹ ریٹ سے مہنگی چیز نہ خریدی ہو۔ صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی الیه سمند الله نظری بہار شریعت میں لکھتے ہیں: ”نا بالغ کے تصرفات تین قسم ہیں: نافع محض یعنی وہ تصریف جس میں صرف نفع ہی نفع ہے جیسے اسلام قبول کرنا۔ کسی نے کوئی چیز ہبہ کی تحفہ دیا) اس کو قبول کرنا اس میں ولی کی اجازت در کار نہیں۔ ضار محض جس میں خالص نقصان ہو یعنی دنیوی مضرت ہوا گرچہ آخرت کے اعتبار سے مفید ہو جیسے صدقہ و قرض، غلام کو آزاد کرنا، زوجہ کو طلاق دینا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.