Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
درزی کے پاس بچے ہوئے کپڑے کے بارے میں حکم
- Answered by
- مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ مارچ2017ء
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ میرا بھائی درزیوں کا کام کرتا ہے، گاہگ سوٹ کے حساب سے کپڑا دے کر جاتے ہیں، اور وہ اپنی کاریگری سے کاٹ کر اس میں سے کچھ نہ کچھ کپڑا بچالیتا ہے، اور بعض اوقات ایک ہی گھر کے کئی جوڑے ایک ہی تھان سے ہوتے ہیں، اگر ان کو احتیاط سے کاٹا جائے تو ان سے زیادہ کپڑا بیچ جاتا ہے جو بآسانی استعمال میں لایا جا سکتا ہے یعنی اس سے چھوٹے بچوں کا ایک آدھ سوٹ بن جاتا ہے، کیا یہ بچا ہوا کپڑا اہم اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں یا نہیں، برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں؟ سائل: اکبر علی لودھی ( نیو بهگام، گوجر خان ضلع راولپنڈی)
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں آپ کا بھائی اجیر مشترک ہے، اور اجیر مشترک کے ہاتھ میں لوگوں کی چیز امانت ہوتی ہے، لہذا سوٹ سینے کے بعد جو قابل انتفاع ( جس سے فائدہ اٹھایا جاسکے) کپڑا بچ جائے، تو وہ بھی آپ کے بھائی کے ہاتھ میں امانت ہے، اس کا حکم یہ ہے کہ مالک کو واپس کر دیا جائے ممالک کی اجازت کے بغیر اپنے استعمال میں لانا نا جائز و حرام ہے یہاں ! اگر مالک اس کے استعمال کی اجازت دیدے یا وہ قابل انتفاع نہیں بلکہ بالکل معمولی مقدار میں ہے جیسے کترن، تو اسکے استعمال میں حرج نہیں لیکن کترین سے مراد بہت باریک کترن ہے، یہ نہیں کہ آدھے گز کو کترین کا نام لے رکھ لیا جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.