Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سودے میں قیمت طے کرنے کی اہمیت

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ فروری 2017ء

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے بکر کو موبائل اس طرح فروخت کیا کہ میرے کاروبار میں منافع ہوا تو یہ 60 عمانی ریال کا ہے اور نہیں ہوا تو 100 ریال کا، بکر 60 ریال دے چکا ہے اب تک منافع نہیں ہوا۔ اس بیع کا کیا حکم ہے ؟

Answer (beginning)

خرید وفروخت کے صحیح ہونے کے بنیادی اصولوں میں شمن (Price) کا معلوم ہونا بھی ہے کہ عقد (AgreemenUDeal) ہوتے وقت لازمی طور پر قیمت (Price) کا تعین (Determine) ہو جائے۔ اگر سودا ہو جائے لیکن قیمت (Price) میں جہالت (Confusion) باقی رہے تو شریعت مطہرہ اس عقد کو فاسد قرار دیتی ہے۔ پوچھی گئی صورت میں کی گئی خرید و فروخت جائز نہیں کہ یہاں قیمت (Price) میں جہالت (Confusion) پائی جارہی ہے جس کی وجہ سے یہ عقد فاسد یعنی غیر شرعی ہے اور اس کا توڑنا واجب ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.