Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نابالغ،بالغ ہونے کے بعد نماز کا اِعادَہ کرے یا نہیں؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ مارچ 2018
Question
نابالغ بالغ ہونے کے بعد نماز کا اعادہ کرے یا نہیں؟ دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نابالغ، وقتی فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے کے بعد اسی وقت میں بالغ ہو تو کیا یہ نماز اسے دوبارہ پڑھنی ہو گی یا نہیں ؟ بیان فرمادیں۔
Answer (beginning)
نابالغ نے نابالغی کی حالت میں جو نماز پڑھی وہ نفل ہے، فرض نہیں اگرچہ فرض کی نیت کی ہو کیونکہ فرائض و واجبات مکلف پر لازم ہوتے ہیں جبکہ نابالغ احکام شرعیہ کا مکلف نہیں ہے۔ لہذا پہلے پڑھی ہوئی نماز نفل تھی اب جبکہ وقت کے اندر بالغ ہوا اور اس قدر وقت نماز کا باقی ہے کہ جس میں تکبیر تحریمہ کہہ سکے تو اس وقت کی نماز اس پر فرض ہے۔ اگر وقت میں دوبارہ نہیں پڑھی تو قضا کرنا فرض ہے اور اب بلا عذر قضا کرنے کی صورت میں تو بہ بھی کرنی ہوگی یہ تو پوچھے گئے سوال کا جواب ہوا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.