Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سفرمیں قضا ہونے والی نمازقَصْر ہوگی یا نہیں؟
- Answered by
- مفتی فضیل صاحب مدظله العالی
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ فروری2018ء
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو نمازیں حالت سفر میں قضا ہو گئیں، بعد میں جب پڑھی جائیں گی تو مکمل پڑھنی ہوں گی یا اُن کی قضا میں بھی قصر کرنی ہو گی ؟ بیان فرمادیں۔
Answer (beginning)
سائل : قاری ماہنامہ فیضانِ مدینہ کسی شخص کی چار رکعت والی فرض نماز اگر سفر کی حالت میں فوت ہو گئی تو اس کی قضا اگرچہ مقیم ہونے کی حالت میں پڑھے اس میں قصر کرنی ہو گی یعنی دور کعتیں پڑھے گا۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَا جَلا وَرَسُولُهُ أَعْلَم عَلَى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat Darulift Ahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.