Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گاہک سوٹ سینے کے لئے د ے جائے لیکن واپس نہ آئے تو درزی کیا کر ے؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ جنوری 2017

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری درزی کی دکان ہے۔ بعض اوقات ہمیں گاہک سوٹ سلائی کروانے کے لئے دے کر چلے جاتے ہیں پھر واپس لینے نہیں آتے اور اس طرح دو دو، تین تین سال گزر جاتے ہیں۔ ہمارے لئے شریعت کا کیا حکم ہے جبکہ اس میں ہماری محنت بھی ہے اور اخراجات بھی؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ اجیر مشترک ہیں اور اجیر مشترک کے پاس جو لوگ کام لے کر آتے ہیں اس کی شرعی حیثیت امانت اور ودیعت کی ہے جس کا حکم یہ ہے کہ جب تک اس چیز کا مالک نہیں آتا اس کی حفاظت کریں، اسے بیچنے یا صدقہ کرنے کی ہر گز اجازت نہیں۔ نیز اسے اپنی اجرت میں شمار کرنا بھی آپ کے لئے جائز نہیں کیونکہ اجرت کے مستحق ہونے کے لئے اس چیز کا مالک کو سپر د کر ناضروری ہے تو جب تک مالک نہ آجائے اور وہ چیز اسے دے نہ دیں کچھ وصول نہیں کر سکتے۔ مشورہ: ہر آنے والے گاہک سے اس کا ایڈرس اور فون نمبر ضرور معلوم کر لیا کریں تاکہ وقت ضرورت رابطہ کیا جاسکے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.