Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پلاٹ خرید کر والد کے نام کردیا مگرابھی تک قبضہ نہیں دیا اب پلاٹ کس کی ملک ہے؟
- Fatwa no.
- 1-1942:har
- Issued
- 29 محرم الحرام 1438ھ/31اکتوبر 2016ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے اپنی ذاتی کاروبار سے میمن سوسائٹی میں پلاٹ خریدا اور والد صاحب کے نام کرادیا۔ پلاٹ خالی پڑا ہے ، ابھی تک اس پر والد صاحب کو قبضہ نہیں دیا۔ پوچھنا یہ ہے کہ والد صاحب اس پلاٹ کے مالک ہو گئے یا ابھی بھی میں ہی مالک ہوں ؟ ہے۔ نوٹ: سائل نے بیان کیا کہ خریداری مطلق ہوئی یعنی اس میں خریداری کی نسبت ان کے والد صاحب کی طرف نہیں کی گئی۔ خریداری کے بعد صرف رجسٹری والد صاحب کے نام کرائی گئی
Answer (beginning)
صورت مستفسرہ میں پلاٹ خریدتے وقت جب خریداری کی اضافت آپ کے والد صاحب کے نام نہ ہوئی یعنی آپ کے والد صاحب کا نام لے کر بائع کو یوں نہ کہا گیا کہ : ان کو فروخت کرو، اس نے کہا میں نے ان کو فروخت کر دیا۔ بلکہ خریداری مطالقا ہوئی یعنی خریداری کو کسی کی طرف منسوب نہ کیا گیا، بعد میں آپ نے وہ پلاٹ اپنے والد صاحب کے نام کر دیا تو قوانین شرعیہ کے مطابق خریداری تو آپ کے لیے واقع ہوئی اور آپ ہی پلاٹ کے مالک ہوئے ، بعد میں آپ کی جانب سے رجسٹری والد صاحب کے نام کر انا عرفاآپ کی طرف سے آپ کے والد صاحب کے لیے ہبہ ہوا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.