Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سنّتِ مُؤکّدہ چھوڑنے کا شرعی حکم
- Answered by
- مفتی فضیل صاحب مدظله العالی
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جنوری 2018ء
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جو شخص ہمیشہ سُنتِ مؤکدہ چھوڑ دیا کرے، اس کے متعلق (سائل: قاری ماہنامہ فیضان مدینه ) شرعی حکم کیا ہے ؟ بیان فرمادیں۔ یا
Answer (beginning)
سنت مؤکدہ کا ایک آدھ بار ترک کرنا اساءت یعنی بُرا ہے اور عاد تا ترک کرنا گناہ ہے، لہذا جو عاد تأسُنَّتِ مؤکدہ ترک کرتا ہے یا پڑھتا ہی نہیں ضرور گنہ گار ہے ، اس پر اس گناہ کے فعل سے تو بہ واجب ہے، آئندہ سُنتِ مؤکدہ کی پابندی کا التزام کرے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَل جَل وَ رَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-Ifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulift Ahlesunnat
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.