Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شلوار کے ساتھ شرٹ پہن کر نماز پڑھنے کا شرعی حکم

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ نومبر 2017

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ نماز میں شلوار کے ساتھ شرٹ پہنی ہو تو اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟ سائل : قاری ماہنامہ فیضانِ مدینہ

Answer (beginning)

فل آستین کی شرٹ ہو یا نصف آستین کی، اسے شلوار کے ساتھ عام طور پر آدمی گھر میں سوتے وقت یا کام کاج کے وقت پہن لیتا ہے لیکن اسے پہن کر بزرگوں کے سامنے جانا معیوب (برا) سمجھتا اور شرم محسوس کرتا ہے۔ کتب فقہ میں اس نوعیت کے لباس پہن کر نماز پڑھنے کو مکروہ تنزیہی قرار دیا گیا ہے یعنی ایسا لباس پہن کر نماز پڑھنے سے بچنا بہتر ہے۔ نمازی کو چاہئے کہ اللہ علہ جان کے دربار کی حاضری کے وقت یعنی نماز ادا کرنے کے لئے اچھا و عمد و لباس پہنے کہ اللہ علہ جن کا در بار اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ بندہ اس کی بارگاہ میں حاضری کے لئے زینت اختیار کرے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.