Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مؤذن کے علاوہ کسی اور شخص کو اقامت پڑھنے کا شرعی حکم
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ اکتوبر 2017
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ جماعت کے لئے جو تکبیر پڑھی جاتی ہے ، مؤذن کسی اور سے پڑھو اسکتا ہے؟ سائل: قاری ماہنامہ فیضان مدینه )
Answer (beginning)
جو اذان دے اقامت کہنے کا حق بھی اسی کا ہے۔ اگر مؤذن موجود ہو تو اس کی اجازت کے بغیر دوسرے کا اقامت کہنا مکروہ ہے جبکہ مؤذن کو ناگوار گزرتا ہو اور وہ اپنے خوشی سے کسی اور کو اقامت کہنے کی اجازت دے تو دوسرا شخص بھی اقامت کہہ سکتا ہے شرعاً اس میں کچھ حرج نہیں۔ اگر جماعت کا وقت ہو گیا اور مؤذن وہاں موجود نہ ہو تو اس کی اجازت کے بغیر کوئی بھی شخص اقامت کہہ سکتا ہے البتہ بہتر ہے کہ امام اقامت کہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.