Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مریض کے لیے لیٹ کرنماز پڑھنے کا طریقہ؟

Answered by
مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
854:Aqs
Issued
14 محرم الحرام 1438ھ /16اکتوبر 2016ء

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر مریض بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکتا ہو تو لیٹ کر نماز پڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟

Answer (beginning)

اگر مریض کی کیفیت ایسی ہے کہ کسی سہارے کے ذریعے بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسی طرح کسی چیز سے ٹیک لگا کر بیٹھ کر نماز ادا کرے لیکن اگر مریض اس پر بھی قادر نہیں تو اسے پیٹھ کے بل اس طرح لٹایا جائے کہ اس کے سر کے نیچے تکیہ رکھ دیں تاکہ اس کا چہرہ قبلہ رو ہو جائے اور اس کی ٹانگیں قبلے کی طرف کر دیں مگر مریض کے لیے ممکن ہو تو اپنے پاؤں سمیٹ لے کہ قبلے کی طرف پاؤں کرنا مکروہ ہے اور اب سر کے اشارے کے ذریعے رکوع اور سجدہ کر کے نماز ادا کرے، اگر سیدھی یا الٹی کروٹ لیٹ کر قبلے کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتا ہے تو بھی جائز ہے مگر پیٹھ کے بل لیٹ کر نماز پڑھنے کی قدرت ہو تو اسی طرح…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.