Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مرغی کو ذبح کر کے گرم پانی میں ڈالنے کا شرعی حکم

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ اکتوبر 2017

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم مخصوص تکہ شاپس (Shops) پر چکن کی سپلائی کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے طریقہ کار پر شرعی رہنمائی درکار ہے۔ ہمارا طریقہ کار یہ ہے: ہم مرغی ہاتھ سے شرعی طریقہ کار کے ساتھ ذبح کرتے ہیں۔ مرغی کی جان نکل جانے کے بعد اسے گرم پانی میں ڈالتے ہیں چند لمحوں کے بعد نکال کر ایک مشین کے ذریعے اس کے جسم سے تمام پر اور بال صاف کر دیتے ہیں پھر اس کے اندر کی آلائش نکال کر پریشر کے ساتھ بہتے ہوئے پانی سے دھوتے ہیں اور اس کے چار پیس کر دیتے ہیں۔ سوالات یہ ہیں: (1) ذبح کرنے کے بعد مرغی کو گرم پانی میں ڈالنا جائز ہے یا نہیں ؟ (مرغی کو گرم پانی میں اس مقصد کے لئے ڈالا جاتا ہے تا کہ اس کے بال اور پر نرم پڑ جائیں اور انہیں کنار ناآسان ہو جائے اس کے بغیر انھیں کنار نابہت دشوار ہے اور انہیں گرم پانی میں چند لمحوں کے لئے رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے پانی گوشت تک نہیں پہنچتا کیونکہ گرم پانی کا گوشت تک پہنچنا خود ہمارے لئے نقصان دہ ہے کہ گوشت کے جس حصے تک گرم پانی پہنچے گا گرم پانی اس حصے کو پکارے گا اور گوشت کی رحمت تبدیل کر دے گا) (2) مرغی کی کھال کھانا جائز ہے یا نہیں؟ مرغی کے پر اُتارنے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس کی کھال باقی رہے کہ تکہ میں اس کی کھال ذائقہ دار اور لذیذ ہوتی ہے۔

Answer (beginning)

(1) سوال سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ذبح شدہ مرغی کو گرم پانی میں ڈالنے سے مقصود اسے ابالنا نہیں بلکہ اس کی ظاہری جلد کو حرارت پہنچا کر اس کے بال و پر کی جڑوں کو نرم اور ڈھیلا کرنا ہے تا کہ انھیں اتارنے میں آسانی رہے۔ اتنے میں حرج نہیں۔ اس کے لئے نیم گرم پانی کافی ہے۔ ہاں اگر پانی ابلتا ہوا ہو تو اس میں مرغی فقط اتنی دیر ہی رکھیں جتنی دیر میں مرغی کے بال و پر کی جڑیں ڈھیلی اور نرم ہو جائیں اس سے زیادہ دیر تک نہ رکھیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.